اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اقتصادی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےتاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کا کہنا تھا کہ اقتصادی تعاون تنظیم جغرافیائی لحاظ سے بہت اہم ہے اور ای سی او فورم سے مختلف شعبوں میں تعاون کی نشاندہی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اوربنیادی ضرورتوں پرتوجہ دینا ہوگی جب کہ رکن ملکوں کی ترقی تاجکستان کی پالیسی کا حصہ ہے۔ خطے میں قابل تجدید توانائی کے وسائل موجود ہیں، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے جب کہ مستقبل کی ضروریات کے لیے پانی کے وسائل کو محفوظ بنانا ہو گا۔ امام علی رحمانوف نے کہا کہ رکن ملکوں میں مناسب شراکت داری پر بھی توجہ کی ضرورت ہے اور ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، مشترکہ حکمت عملی سے قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور خطے کے مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون کریں گے، ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے وژن 2025 پر عملدرآمد کرانا ہو گا، ای سی او ممالک کو علاقائی اور عالمی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ وسط ایشیائی ممالک کی راہداری کے لیے افغانستان انتہائی اہم ملک ہے اور افغانستان میں امن وامان پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
.......
/169